پیش گفتار
امریکہ مسلمانوں کے حق میں سورۃ النصر کی نوید نہیں بلکہ سورۃ الرعد کا تسلسل ہے۔ تاریخ سے منہ موڑے رکھنے کے المیوں میں یہ المیہ بھی شامل ہے کہ ہم امریکہ کو فاتحین اندلس کی باقیات کے حوالے سے دیکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہسپانیہ میں جن ہاتھوں نے تیس لاکھ مسلمانوں کو بپتسمہ عیسائیت کے نام پر قتل کیا تھا، اب وہی ہاتھ بپتسمہ جمہوریت کے نام پر کئی تیس لاکھ مسلمانوں کے خونِ ناحق سے رنگے ہیں۔ بپتسمہ عیسائیت سے بپتسمہ جمہوریت تک ہم ایک ہی نظریئے، ایک ہی عفریت اور ایک ہی ہاتھ سے قتل ہوئے ہیں۔ بپتسمہ اول (عیسائیت) سن 1502ء سے بپتسمہ ثانی (جمہوریت) سن 2006ء تک ہمارا قاتل ایک ہی رہا ہے۔ ‘ہوئے تم دوست جس کے’ اسی دستِ سفاک کی تلاش کا سفر ہے۔
سقوطِ غرناطہ ہمارے لیے اپنی نوعیت میں سقوط سے زیادہ تسلسل اور اندلس سے بڑھ کر امریکہ ثابت ہوا کہ اندلس کے بعد بھی ہماری شہ رگ پھر اسی عفریت کے خونی جبڑوں میں ہے جسے ہسپانیہ میں ہم اپنے جرمِ ضعیفی کا خراج پانچ صدیاں پہلے بھی دے چکے ہیں۔ ان پانچ صدیوں میں نہ تو مصلحتِ شام میں کمی آئی، نہ ہمارے کوفہ نفاق میں قرار آیا۔ نہ جرمِ ضعیفی کٹا، نہ مرگِ مفاجات تھمی۔
یہ کتاب تین حصوں، دو سقوط، ایک پڑاؤ اور ڈھیر ساری سقیم الحالی کے درمیان نظریاتی تسلسل کی تلاش اور یکسانیت کی نشان دہی پر مبنی ہے۔ یہ سقوطِ اندلس اور امریکہ کی تاریخ سے زیادہ ائمہ اور امریکہ کا مقدمہ ہے، ایسا مقدمہ جس کا فیصلہ ہنوز باقی ہے۔
ہمارا مرنا دونوں طرح سے طے ہے۔
ہم جن کے ساتھ ہیں وہ ہم سے اس ساتھ کی قیمت لگانے بیٹھے ہیں، اور اس ساتھ میں
ہم جن کے خلاف ہو گئے ہیں وہ ہم سے مخالفت کا معاوضہ مانگتے ہیں۔ تاریخ کہتی ہے کہ ہمیں ہر دونوں کو یہ ادائیگی سروں کی جنس میں کرنا ہوگی۔ عندالطلب فصلِ سر کٹے گی تو یہ ادا ہوگی، اور قرائن کہتے ہیں کہ بالآخر یہ معرکہ، یہ آخری جنگ اسی سرزمینِ پاک میں تمام ہوگی جو ایک اور سقوط سے پہلے سقیم کے منطقی مدارج میں سرگرداں ہے۔ آلِ ازابیلا اور اولادِ فرڈی ایڈ کا اسلام دشمنی میں راسخ ہونا عین فطری، تاریخی، روایتی اور منطقی طرزِ عمل ہے۔ اسی طرزِ عمل کی کھوج ہمیں پانچ صدیاں پیچھے دو جنوری 1492ء کی صبح تک لے گئی جہاں سقوطِ غرناطہ کا المیہ وقوع پذیر ہو رہا تھا۔
ہمیں حیرانی ہوئی کہ یہ کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیں تھے۔
نوم چومسکی لکھتے ہیں کہ “مماثل تاریخی واقعات کا جائزہ لیں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ان میں مماثلت تھی یا یہ ایک دوسرے سے مختلف تھے، تو اس کا جواب ہمیشہ ہاں یا ناں، دونوں میں ہو گا”۔ نوم چومسکی کے اس نظریے کی کسوٹی پر اگر ہم ملکہ ازابیلا سے شروع ہونے والی اسلام دشمنی اور عیسائی انتہا پسندی کو امریکی حکومتوں تک پھیل جانے والی اسلام دشمنی کے پس منظر میں پرکھیں تو اس میں ’ناں‘ والی کوئی بات نہیں۔ اس طرف ہاں ہی ہاں ہے، یکسانیت ہی یکسانیت، مماثلت ہی مماثلت۔ اسی طرح جب ہم سقوطِ غرناطہ کے موقع پر مسلمان اور عیسائی حکمرانوں کے درمیان خفیہ عہد و پیمان، صدقے واری اور کیفیتِ یک جان دو قالب کا موجودہ مسلمان حکمرانوں اور امریکی حکمرانوں کے بیچ یک جہتی، بھائی چارے اور خفیہ ایجنڈے سے موازنہ کرتے ہیں تو ادھر سے بھی ہمارا سر کاٹنے پر “جناب آہستہ آہستہ”… کا پیغام بھیجا جاتا ہے۔ اس طرف بھی کوئی ’ناں‘ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ’ہوئے تم دوست جس کے‘ میں ہماری کاوش بس اسی قدر جانیے کہ یہ یکساں پہلو، یہ گہری مماثلت، پہلو بہ پہلو، قدم بہ قدم آشکارا کر دی جائے کہ اصل میں دونوں ایک ہیں۔
اذان دے دی جائے تو سجدہ گزاروں کی آمد سے نااُمیدی نازیبا ہے۔
بریگیڈیئر صدیق سالک (مرحوم) ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
“میں نے اس کتاب کو ادب سے دُور اور تاریخ کے قریب رکھنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں تاریخی واقعات پر ادبی خول چڑھانے بیٹھ جاتا، تو خول تو شاید چمک اٹھتا، مگر حقائق ماند پڑ جاتے
، اس لیے میں نے ساری رُوداد سیدھے سادے انداز میں رقم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر کہیں کہیں کوئی ادبی جملہ آگیا ہے، تو اس کی حیثیت میری نظر میں اندھیری رات میں تنہا ستارے جیسی ہے جو چمکتا تو ہے، مگر اس سے تاریکی کم نہیں ہوتی۔‘‘
یوں تو ہم کسی ادبی جملے سے تاریکی چھٹ جانے کے زعم میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے لیکن صدیق سالک کے برعکس ہم ادب کے دامن کو ہرگز اس قدر تنگ نہیں سمجھتے کہ تاریخی حقائق و واقعات قلم بند کرتے ہوئے اس پر تنگیِ داماں کی مہر ثبت کر دی جائے۔ لکھنے کی واجبی صلاحیت اپنی جگہ لیکن اس کے باوجود ہم کبھی ادب کے تنگیِ داماں پر شاکی نہیں رہے۔ ہم نے کبھی ادب سے قریب رہنے کی شعوری کوشش کی نہ تاریخ و تحقیق کو ادب سے دُور، رکھنے کی۔ خول چڑھے کہ اُترے، ماند پڑے کہ چمکے ہم شکر گزار رہتے ہیں کہ یہ کبھی ہمارا مسئلہ نہیں رہا۔ لیکن اسلامی ناولوں، اسلامی تاریخ میں جنسی ہیجان کا تڑکا لگانے، لذتِ حکایت، لقمہ حرام اور لفظوں کے مول تول سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ قارئین کے لیے غالباً تاریخ اور ادب کی یک جائی تو نئی بات نہ ہو لیکن ادب، تاریخ اور تحقیق کا اکٹھ قدرے نامانوس تجربہ ہو سکتا ہے لیکن اس میں ہرج والی کوئی بات نہیں۔ تجربے تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور آواز و لفظ و بیان بھی بدلتے رہتے ہیں۔
سقوطِ غرناطہ کے المیے سے جنم لینے والا امریکی دریافت کا المیہ بھی اُمّہ کے حق میں اسی قدر المناک ثابت ہوا کہ جس قدر سقوطِ غرناطہ بذاتِ خود الم انگیز تھا۔ یہ تو عین ممکن ہے کہ میں اپنی بے حیثیت اور کم علمی کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان حیرت انگیز تعلق، تسلسل اور مماثلت کو خاطر خواہ طریق سے آشکارا کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ لیکن اس موقع پر فیصلہ آپ کے ہاتھ دیتا ہوں کہ اس کوشش میں میرا اخلاص، میری تقصیر، نیت، فردِ جرم اور حوصلہ وجہ ملامت نہیں بنے گا۔
ڈاکٹر حقی حق کی کتاب ہوئے تم دوست جس کے سے ماخذ



