دعوتِ اسلام کے مرکز کے طور پرعرب اور مکہ معظمہ کا انتخاب

دعوتِ اسلام کے مرکز کے طور پر

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب تمام ہی دنیا کی حالتِ اصلاح طلب تھی تو اس کی اصلاح کی دعوت کا مرکز کہاں ہو؟

جغرافیائی وجہ

پرانی دنیا کے نقشے پر نظر ڈالئے تو نظر آجائے گا کہ ایشیا، یورپ، افریقہ اور اوقیانوسیہ کے براعظموں میں جزیرہ نما عرب کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ مرکز بھی ایسا کہ ایشیا میں ہوتے ہوئے بھی وہاں سے افریقہ اور یورپ بہت قریب ہیں۔ خاص کر ان دونوں براعظموں کے اس زمانے کے متمدن ترین علاقے یعنی یونان، مصر، روما سے بھی مرکزیت تھی، جس نے عرب کے بھی مرکز مکہ معظمہ کو نافِ زمین کا نام دلا دیا تھا۔

کسی مرکز سے ہر انتہائی حصہ قریب ترین ہوتا ہے۔ اور ہر جگہ پہنچنا مرکز ہی سے سہل ترین ہوتا ہے۔ آب و ہوا کا اثر طبائع اور اخلاق پر جو کچھ پڑتا ہے وہ اب مسلم ہے۔ سرد ممالک والوں کی ذکاوت، پہاڑی اور صحرائی لوگوں کی جفاکشی، زرخیز ممالک والوں کی تمدنی ترقیاں وغیرہ مسلمہ قانونِ قدرت پر مبنی معلوم ہوتی ہیں۔ ایک بہت ہی محدود رقبے کے اندر مکے کی وادی غیر ذی زرع، طائف کی رشکِ شام و روم خنکیاں، مدینے کی زرخیزی وغیرہ کا ایسا اجتماع حجاز میں عمل میں آیا کہ اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔ یہ ایک عجیب اتفاق تھا کہ ایشیا، یورپ اور افریقہ سے طبعی مماثلت کے ساتھ ساتھ عرب میں ان تینوں براعظموں کے سیاسی مفادات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کے وقت پوری قوت سے اثر انداز تھے۔ قسطنطنیہ کے رومیوں نے شمالی عرب پر، ایرانیوں نے مشرقی، اور حبشیوں نے جنوب مغربی عرب پر قبضہ کر رکھا تھا۔ اور عرب تینوں براعظموں کا سنگم اور عمل در عمل کا مرکزی نقطہ بنا ہوا تھا۔

عمرانی وجہ

تاریخِ عالم پر محض ایک سرسری نظر سے بھی واضح ہو جاتا ہے کہ وحشت و بدویت کے بعد ہی کسی قوم کا ارتقاء اور اس کے ہاتھوں انقلاب آفریں کارنامے انجام پاتے ہیں۔ اور عروج و تمدن کے زمانے میں کسی قوم میں برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں تو وہ اپنی اصلاح نہیں کر سکتی، بلکہ جلد ہی انحطاط و زوال کے ذریعے سے اس کا رہنما یا نہ وجود دنیا سے ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا کی متمدن قوموں کو عموماً وحشیوں اور بدویوں ہی نے اپنی بے سروسامانی کے باوجود مغلوب کر لیا، رومی شہنشاہی کو جرمنوں نے، چینیوں کو ترکمانوں نے جس طرح زیر کیا، وہ دنیا کو معلوم ہے۔ عہدِ نبوی کی متمدن دنیا کو صحرائے عرب کے بدویوں کے ذریعے سے جھنجھوڑنے کی ضرورت تھی۔

کوئی ملک پوری طرح حضری اور متمدن زندگی گزارنے لگے تو اس میں زندگی پیدا کرنے والے نئے پیوند کا لگنا اندرونی وسائل سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف اگر خانہ بدوش بدویوں کے ماحول میں کہیں کہیں شہری زندگی کے آثار پیدا ہو گئے ہوں تو ایسا علاقہ وقتاً فوقتاً صحرا نشینوں کو اپنے اندر کھینچ کر جذب کر کے تازہ قوت حاصل کر سکتا ہے۔ یہ بات عرب میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔

نامعلوم وجہ سے دنیا کے تین حصے بڑے نسل کش ہیں۔ صحرائے گوبی، جرمنی کا کالا جنگل اور عرب سینکڑوں ہزاروں سال سے انہیں علاقوں سے اجتماعی ہجرتوں کی موجیں اٹھتی رہی ہیں۔ اور آس پاس کے علاقوں پر چھا جاتی رہیں۔ کیونکہ خود ان کے اپنے اندر آبادی کی تیز ترقی کی قوت ہے۔ لیکن آبادی کی پرورش کے لیے غذا وغیرہ کے وسائل بہت کم ہیں۔ یہ بات جو عرب کو حاصل ہے دنیا کے مرکز میں ہونے کے باعث مزید اہمیت پیدا کر دیتی ہے۔

عرب خاص کر حجاز میں اب تک کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے اب تک اپنی ذہنی قوتیں کسی کام میں خرچ نہ کی تھیں۔ اور ان کی توانائیاں سب محفوظ بلکہ لبریز تھیں۔ نپولین کے استنباط کے مطابق سینکڑوں سال سے خانہ جنگیوں اور بے امنیوں کے باعث ان میں جفاکشی، جاں فروشی، صبر و ضبط مستعدی، سادگی اور اسی طرح کے دیگر بلند کردار جو ترقی کناں قوموں کے لیے درکار ہیں خوب پرورش پا چکے تھے۔ بعض دیگر وجوہ سے بات کا پاس، خودداری، عزتِ نفس بھی ان میں مستحکم تھے۔ صحرائی زندگی اور کھلی فضا میں پرورش کے باعث ان کی بصارت، سماعت، اور دیگر حواس بھی شہریوں کے مقابل غیر معمولی طور پر تیز تھے۔ لکھنے پڑھنے کا (گنتی کے پندرہ بیس آدمیوں کو چھوڑیں تو) چونکہ کوئی رواج نہ تھا اس لیے حجازیوں کے حافظے بہت زبردست تھے۔ غذا میں سادگی، صحرا کا ناگزیر نتیجہ تھا۔ اور برسوں میں بھی کوئی بیمار نہ ہوتا تھا۔

زراعت پیشہ لوگوں میں جو وابستگیِ وطن بلکہ زمین زدگی ہوتی ہے، اس کے باعث ان کا مہمات پسند ہونا، وطن سے کسی بھی لمحے دور و دراز مقام پر جانے پر آمادہ رہنا، اور اسی طرح کے مستعدی کے دیگر امور ممکن نہیں، صنعت و حرفت میں بھی زمین زدگی کافی ہوتی ہے۔ صرف تجارت پیشہ ہی ایسے لوگ ہو سکتے ہیں جو سفر و سیاحت کی ترغیب بھی پاتے اور اس پر مجبور رہ کر اس کے عادی بھی ہو جاتے ہیں۔ مکہ والوں کی بستی قرآنی الفاظ میں “بغیر کھیتی” کی وادی ہے۔ یہاں زراعت تو کیا صنعت و حرفت کے لیے بھی کوئی سہولت نہیں۔ اور تو اور غذا تک کی درآمد کی ضرورت ہے۔ ایسے لوگوں کی مستعدی اور تیار باشی کے کیا کہنا۔

فتوحات اور توسیع نیز ان کے استحکام کے لیے حرکت پذیری (Mobility) کو جو اہمیت ہے وہ آج مسلم ہے۔ جس زمانے میں بے جان سواریاں بجز سمندری جہاز کے اور کچھ نہ تھیں، اور برق اور بھاپ پر ابھی انسان کو تسخیر حاصل نہیں ہوئی تھی تو تیز تر سواری گھوڑے کی تھی۔ اور کار آمد ذریعہ حمل و نقل اونٹ جس کا صبر و تحمل، غذا کی سادگی و کمی، کثیر بوجھ کا اٹھا سکنا، دودھ اور گوشت وغیرہ کا قابلِ غذا ہونا سب جانتے ہیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں سے عرب کو جو خصوصیت ہے وہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ ہزاروں کی عربی فوج اپنے اونٹوں کی مدد سے جس تیزی سے حرکت کر سکتی اور لمبے لمبے، دھاوے مار سکتی تھی وہ عربی فتوحات کی سرعت، کامیابی اور استحکام کے اہم وسائل میں سمجھی جاتی ہے۔ اور ماہرینِ حربیات قدیم سے عربوں پر رشک کرتے رہے ہیں۔

چین اور ہندوستان کی تجارت عرب ہی سے ہو کر یورپ جاتی تھی۔ قریش کا عرب کی تجارت پر حاوی رہنا مصر و شام، عراق و ایران، یمن و عمان، حبش و سندھ وغیرہ سے انہوں نے جو تجارتی معاہدے (ایلاف) کر رکھے تھے اور “رحلة الشتاء والصيف” کے باعث شمال و جنوب کے جس طرح قلابے ملاتے رہتے تھے وہ سب جانتے ہیں۔ ان سے بڑھ کر اقوام کی مزاج شناس، ملکوں کی راہ شناس، سب سے واقفیت کے باعث خود شناس قوم اس وقت کم ہوگی۔

حکمرانی کا سلیقہ

مکے اور طائف اور پھر مدینے کی شہری مملکتوں میں جو تھوڑا سا سیاسی نظام تھا وہ خوش قسمتی سے سماجی مساوات پر مبنی تھا۔ سرداری اور اعیانیت سے کوئی جات پات کے ناقابلِ شکست بندھن نہیں پیدا ہو گئے تھے۔ سب آزاد اور سب برابر کے ہوتے تھے۔ محض عقل و تجربہ کسی کو سردار منتخب کراتے تھے۔ اس ماحول میں رچے ہوئے ہونے کے باعث انہیں جب دنیا پر حکمرانی کا موقع ملے تو انسانوں میں مساوات کی جیسی توقع ان سے ہو سکتی اور رنگ، زبان و وطن کے اختلافات کو بے اثر قرار دینے کی ان سے جتنی اُمید ہو سکتی تھی نہ برہمنیت میں ممکن تھی نہ ایرانیت میں نہ رومیت میں، نہ طبقات کا تفرقہ ذہنوں میں اتنا راسخ تھا کہ نکالے نہ نکل سکتا تھا۔

لسانی وجہ

عربی زبان بھی انتخاب کا ایک باعث ہو سکتی تھی۔ اس کا خط جمالیاتی اور خطاطیاتی نقطہ نظر سے جو صلاحیتیں رکھتا تھا اور خود زبان ادائے مطالب اور فصاحت و بلاغت کی جو غیر متناہی قابلیتیں رکھتی تھی وہ دیگر ہم عصر متمدن زبانوں مثلاً پہلوی، یونانی، سنسکرت اور لاطینی نہ چینی پر بدرجہا فوق رکھتی تھی۔

نفسیاتی وجہ

چند ساحلی یا سرحدی رقبوں کو چھوڑ کر عرب پر اب تک کسی بیرونی سلطنت کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔ بلکہ وہ اپنی آزادی کے ساتھ ہمیشہ بیرونی پناہ جوؤں کے لیے پناہ گاہ ثابت ہوتا رہا۔ دنیا کی رہنمائی کے لیے کسی غلامانہ ذہنیت رکھنے والی قوم کی جگہ وہی قوم اوروں پر ترجیح رکھتی سمجھی جا سکتی ہے جو آزادوں کی بھی آزاد ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *