دنیا میں بُرائی اور گناہ کو فن لطیف بنا دینے والے بھی اور قوم کی حالت پر کڑھنے اور دردمند دل رکھنے والے بھی ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں۔ برائی اور اخلاقی پستی جتنے بڑے طبقے میں پھیلتی اور شدت اختیار کرتی ہے اتنے ہی بڑے کردار کے مصلح کی ضرورت ہوتی ہے۔ انبیائے سلف کے زمانے میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک قوم، کسی ایک بستی میں بُرائی کو بھلائی سمجھنے لگنا عام ہوتا تھا۔ اور باقی دنیا ایک حد تک گوارا کرنے کے قابل کردار رکھتی تھی۔ اور نبی بھی خاص مقام کے لیے روانہ کیے گئے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عہدِ نبوی کے آغاز پر دُنیا کے کس کس ملک میں مصلح کی ضرورت تھی۔ ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہونے کے باوجود روز افزوں پھیلنے والی نسل انسانی قدیم زمانے میں ذرائع معیشت کی ضرورتوں سے جب اپنوں سے بچھڑتی اور رشتہ داروں سے دور دوسری جگہ جا بستی تو پھر اپنے مرکز سے تعلق رکھنے کی ضرورت یا موقع کم ہی پیش آتا تھا۔ ایک تو ذرائع حمل و نقل کی کمی تھی۔ دوسرے ہر مقام اپنی ضرورتوں کے لیے جو زیادہ تر غذا، لباس وغیرہ پر مشتمل ہوتیں، خود اکتفا ہوتا۔ یہ نہ تھا کہ آج کل کی طرح ہر کوئی اپنی کسی نہ کسی ضرورت کے لیے دوسروں کا محتاج ہو، کہیں غلہ نہ ہو، کہیں رُوئی نہ ہو، کہیں لوہا، کہیں کوئلہ یا پٹرول نہ ہو، کہیں کاغذ کا مواد نہ ہو۔ اس کا نتیجہ تھا کہ قدیم زمانے میں بین الاقوامی اور بین الممالک تعلقات ناپید سے تھے۔ ناگزیر نبی اور مصلح بھی قومی ہوتے تھے۔ (عالمگیر اور بین الاقوامی نہیں) اور ان کی تعلیم کسی بربری، کسی غیر بنی اسرائیل، کسی غیر آربہ سے متعلق ہی نہ ہوتی تھی۔ انسانیت میں بین الاقوامی احتیاج رفتہ رفتہ ہی پیدا ہوئی۔ اور عہد نبوی کے آغاز پر اس کا عبوری دَور اس حد تک گزر چکا تھا کہ مہمات پسند
عرب تاجر ایک طرف حبش و مصر و شام کو تو دوسری طرف چین و ایران و ہند کو کارواں لے جایا کرتے لگے تھے۔ بڑے بڑے جہاز بنانا اور زمین کے قلابے ملانا انسان سیکھ چکا تھا۔ ناگزیر اب نبی بھی مختص المكان، اور مختص الزمان ہونے کی جگہ ایسا ہونا ضروری تھا جو معتدل اور مستقل تعلیم دے۔ سرد ممالک ہوں یا گرم، شہری باشندے ہوں کہ خانہ بدوش، سب کو ایک مرکز سے دوبارہ جوڑنا اور سب کے لیے بنیادی مذہب لانا ممکن ہو۔ تعلیم میں مستحب اور نفل کی تھوڑی سی لچک ضرور ہے۔ لیکن اقل قلیل فرائض بنیادی مذہب کا کام دے سکیں، اور وہ سب ہی کے لیے یکساں ہوں۔ یونان کسی زمانے میں حکمت اور فصاحت کے دریا بہا چکا تھا۔ دنیا کو اس کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے کے لیے حکمت اور فصاحت کے ایک بہتر اور بلند تر نمونے کی ضرورت تھی۔ روما نے قانون سازی میں کمال پیدا کیا تھا۔ اور رسول عربی کی ولادت سے پانچ ہی سال پہلے مرنے والے شہنشاہ جسٹی نین نے رومی قوانین کی تدوین کا کارنامہ انجام دلا کر دنیا کو ایک چیلنج دے دیا تھا کہ اس سے بہتر قانون لاؤ۔ اسی طرح ہندوؤں نے کچھ، مصریوں نے کچھ، ایرانیوں نے کچھ، ایسے کارنامے چھوڑے تھے جن سے خاص خاص شعبوں میں انسانی ذہنیت پر ان کی برتری مسلم ہو چکی تھی۔ اور ضرورت تھی کہ انسانی ذہن کی صحت مند بالیدگی کے لیے ان کچلنے والے مواقع کو دُور کر دیا جائے۔ اور انسان کو عقل، فکر، نظر، بصر، سمع، تفقہ، تدبر، شعور، علم وغیرہ سے خود کام لینے پر آمادہ کیا جائے۔ ان عطایائے فطری کو معطل کر لینا اسے انفرادی جواب دہی سزا و جزا سے بھی علیحدہ کر لینا فی الحقیقت اطاعت شعار فرشتوں اور کش شیطانوں سے الگ ایک احسن تقویم والی مخلوق کے پیدا کرنے کی غرض کو فوت کر دینا ہے۔ ان تمہیدی نکات کے ساتھ دنیا کے بڑے ممالک کی عام حالت سے جو بعثتِ نبوی کے وقت تھی، ضروری واقفیت حاصل کر لینی چاہیے
چین
چین نے اقصائے مشرق میں اپنی صلاحیتوں کے معراج کمال کا مظاہرہ اپنے مصلح کونگ فوت سیو (کنفوشیس) (زمانہ 551 تا 479 ق م) کی صورت میں کر دیا تھا۔ عہدِ نبوی کے آغاز پر وہاں عجیب حالت تھی۔ کنفوشی نظام پارہ پارہ ہو چلا تھا۔ ہند کا بدھ مت وہاں گھسنے اور ایک عبوری دور پیدا کرنے کا باعث بنا ہوا تھا۔ متأخر خاں (Huns اِہن) خانوادے کی
حکومت عرصہ ہوا ختم ہو چکی تھی۔ اور اس کی جگہ وائی “Wai” وو “Wu” اور شو (Shu) کی تین حکومتیں قائم ہوئی تھیں کہ خانہ جنگیوں کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ چھڑ گیا اور ملک کو انسانیت کی کسی خدمت کے نا قابل بنا چکا تھا۔ گھریلو فتنے پر مستزاد تاتاریوں، ہسیونگ نو اور تبت والوں کے حملے بھی تھے۔ عرصہ دراز کے افتراق کے بعد خانوادہ سوئی نے 589ء تا 618ء تیس سال کے قلیل عرصے کے لیے ملک میں بہت کچھ وحدت پیدا کی۔ مگر ہجرت نبوی سے دو سال پہلے ہی اس کا خاتمہ ہو گیا۔ پھر ٹٹانگ خانوادہ برسرِ اقتدار آیا تو آہستہ آہستہ حالت کچھ سدھری۔ اور ملک میں امن اور یکجہتی تو پیدا ہوئی مگر ہم چومن دیگرے نیست کا ترقی سوز جذبہ انھیں کچھ سیکھنے میں مانع ہی رہا۔ (تفصیلات انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا وغیرہ میں)
ہند
ہند میں ایک ہزار سال قبل مسیح آریہ قبائل آ گھسے تھے۔ ذات پات کے نظام، مظاہر پرستی کی سطحیت کے تحت کروڑوں دیوتاؤں کی ایجاد، رہبانیت ترکِ دنیا کو انسانیت کا کمال سمجھنے کا جذبہ اور ہر طرح کی چیزیں اسے پوری انسانیت کی اجتماعی زندگی کی خدمت کے ناقابل بنا چکی تھیں۔ کنفوشیس کے ہم عصر زمانے میں گوتم بدھ نے برہمنوں کی مراسم پرستی کے خلاف احتجاج کر کے ایک دوسری انتہا پسندی کی تعلیم دی۔ علاج صحیح تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ وہ عارضی ضرورتوں کے لیے تھا، چند دن وہ پھلا پھولا۔ مگر ایک تو معتدل حالات کے لیے اس میں ٹھوس بنیادیں نہ تھیں دوسرے بدھ مت اور برہمیت کی کشمکش ایک دوسرے پر عارضی فتح کے بعد بالآخر بدھ مت کو بڑے مظالم کے بعد ہند سے خارج کر دینے کا باعث بنی۔
عہد نبوی سے پہلے ہند پر وسط ایشیاء کے سفید خان (Huns) خانوادے کی حکومت تھی مگر ولادت نبوی سے پانچ سال پہلے 565ء میں دریائے جیحوں پر اس حکومت کو شکست ہوئی، تو ہند پر سے بھی اس کا تسلط جاتا رہا۔ پھر تھانیسر کے راجہ کا چھوٹا بیٹا ہرش (زمانہ 606 تا 48ء) شمالی ہند کا مالک بنا۔ آسام بنگال، نیپال، مالوہ، گجرات، کاٹھیاواڑ وغیرہ اس نے رفتہ رفتہ فتح کئے۔ مگر 610ء میں ہجرت نبوی سے کچھ پہلے اس نے دکن کا رُخ کیا تو چلوکیا خاندان کے راجہ پٹی کے سن دوم نے اسے دریائے نربدا پر شکست دے دی۔ اس کی اولاد نہ تھی۔
اپنی رعایا کو اس نے آرام طلب بنا لیا تھا۔ اس کی موت کے ساتھ اس کی شہنشاہی کا خاتمہ ہو گیا اور پھر صدیوں تک تباہ کارانہ خانہ جنگیاں ہوتی رہیں۔ چلوکیا والوں نے ہرش کو شکست تو دی، مگر کاورم کے پلوا والوں کے ہاتھ خود بھی تباہ ہو گئے اور ان کی سلطنت پنپ نہ سکی۔
(ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا وغیرہ)
ترکستان
یہ بڑا مردم خیز خطہ ہے۔ مگر سنہ عیسوی کی سات صدیوں تک یہاں کی حالت کا ہمیں کچھ بھی علم نہیں۔ عہد نبوی کے ہم عصر خان (Huns) تبت پر چھا گئے تھے اور مغربی ترکوں کی مدد سے براج رہے تھے۔ مگر ان میں نہ کوئی تمدن تھا اور نہ خود غرضی کے سوا انسانیت کی خدمت کے لیے ان میں کوئی بلند مطمح نظر ہی۔ (ماخوذ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا)
رومی و ایرانی
یونان تو کبھی کا ختم ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ یورپ میں رومی حکومت قائم ہو گئی تھی۔ مگر جب وہ مشرقی و مغربی دو حصوں میں بٹ گئی تو ہم دیکھتے ہیں کہ عہد نبوی کے زمانے میں مغربی رومیوں پر جرمن وغیرہ قبائل ٹوٹ پڑے اور پایہ تخت روما کے بھی مالک بن گئے تھے۔ ان ان پڑھ وحشیوں نے جو کچھ کیا ہوگا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انھوں نے محبت کے مذہب یعنی عیسائیت کو قبول کیا تو غیر عیسائیوں سے زیادہ بے رحمی اور بے اصولی دکھاتے رہے۔ ادھر مشرقی رومی حکومت قسطنطنیہ کے صدر مقام سے ہمسایہ ایرانیوں کے ساتھ صدیوں تک آویزش میں مبتلا رہی۔ عہد نبوی کے ابتدائی زمانے میں ایرانیوں نے اپنے حریفوں سے مصر اور شام وغیرہ تک چھین لیے تھے، اور قرآن مجید میں غُلِبَتِ الرُّومُ فِی اَدْنَی الْاَرْضِ کا اعلان کیا۔ مگر ۶ھ یعنی صلح حدیبیہ کے زمانے میں نینویٰ (موصل) کے میدان پر رومی شہنشاہ ہرقل نے ایرانیوں کو ایسی فیصلہ کن شکست دی کہ ان کے ہاں شاہ گردیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اور ایران سنبھل ہی نہ سکا قسطنطنیہ کے رومی (بازنطینی) اس فتح سے کیا فائدہ اٹھاتے جب کہ صدیوں کی بیرونی جنگوں نے ایک طرف ملک کو تباہ و تاراج کر دیا تھا، تو دوسری طرف مذہبی فتنے بھی ان کے ہاں ناقابلِ بیان تھے۔
چنانچہ حضرت مسیح میں صرف خدائی طبیعت کا ہونا یا خدائی اور انسانی ہر دو طبیعتوں کا پایا جانا یا دو طبیعتوں مگر ایک مشیت کا پایا جانا وغیرہ نظریے فرقہ بندی پیدا کر رہے تھے۔ اور ہر فرقہ اتنا تنگ نظر تھا کہ دوسرے پر اتنے مظالم کرتے رہے کہ جب حکمران فرقے سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو دوسرے فرقے کے عیسائی دل و جان سے ان اجنبی غیر مذہب والوں کو خوش آمدید کہتے اور ان کو مدد دیتے رہے۔ اور مسلمانوں کے ماتحت رہنا ان کو غیر فرقے کے عیسائیوں کے ماتحت رہنے سے کہیں زیادہ اچھا معلوم ہوتا تھا۔ (انحطاط و زوال روما مؤلفہ گبن)
یہی حال ایران کا تھا۔ مزدکیت کی دولت اور عورت میں اباحت پسندانہ اشتراکیت نے عرصے تک ملک کو نہ صرف خانہ جنگی میں مبتلا رکھا بلکہ ملک کے اخلاق کو ناقابلِ اصلاح طور پر تباہ کر دیا تھا۔ حد ہو گئی کہ مزدک نے بھرے دربار میں شہنشاہ سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ یہ تیری ملکہ بھی صرف تیری نہیں ہے بلکہ اس سے ہر شخص استفادہ کر سکتا ہے اور اس پر نہ اسے غیرت آئی اور نہ یہ شرمائی۔ پھر نوشیرواں تخت نشین ہوا تو اس نے اپنے باپ کے عمل کو الٹ دیا۔ اور اب آتش پرستی نے مزدکیت کے خلاف وہ وہ ظلم ڈھائے کہ بیان سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ اسی زمانے میں رسول اکرم ﷺ کی ولادت ہوئی۔ مگر جیسا کہ ہم نے دیکھا رومیوں نے ایرانیوں کو کچھ ایسی زک دی تھی کہ وہ پنپ نہ سکے۔ (کرسٹین سین، ساسانی)
حبش
حبش بھی کافی بڑا علاقہ ہے اس نے ایرانیوں سے یمن کو چھین لیا تھا۔ مگر جب یہ شمالی عرب میں بڑھے تو ولادتِ نبوی کے سال یہ “اَصْحٰبُ الْفِیْلِ” کیڑا کھائے ہوئے کھوکھلے دانوں (عَصْفٍ مَّاکُوْلٍ) کی طرح ختم ہو گئے۔ اور جلد ہی عہدِ نبوی میں ان کی حکومت عرب میں اور خود حبش میں بھی خانہ جنگیوں وغیرہ میں پھنس کر بیکار و معطل ہو گئی۔ اور مسلمان مہاجرین ہمیشہ خود حبش کی ان خانہ جنگیوں سے پریشان رہے۔
غرض اس زمانے میں جدھر دیکھو دنیا میں تباہی اور فتنہ و فساد ہی تھا۔ کسی جگہ بلند نظرانہ عالمی ہمتی اور درمندانہ انسانیت پروری نظر ہی نہ آتی تھی۔ ضرورت تھی کہ پوری دنیا کو اب جھنجھوڑ کر یاد دلایا جائے کہ وہ سب ایک ہی آدم و حوا کی اولاد ہے۔ اور ملک وار، قوم وار، نسل وار، اور ایسے ہی دیگر محدود مذاہب سے نجات دلائی جائے۔ اور تمام انسانی دنیا کے لیے ایک “بنیادی مذہب” پیش کیا جائے جو زمان و مکان کے فرق سے بالا اور جاتیوں اور طبقوں کے امتیاز سے بری ہو۔ اور ہر انسان کو انفرادی حقوق اور ذمہ داریاں عطا کر کے نوعِ بشری کی تخلیق کی اصلی غرض و غایت پوری کرنے کا انتظام کیا جائے۔
رسول اکرم ﷺ کی سیاسی زندگی
ڈاکٹر محمد حمید اللہ






