صبح 5 بجے سے لمبی قطاروں میں کھڑے لوگ
گرمی میں پسینہ بہاتے بزرگ…
گود میں بچے اٹھائے مائیں…
اور ایک عام پاکستانی، جو صرف اپنا حق لینے آیا ہوتا ہے۔
یہ منظر کسی فلم کا نہیں، بلکہ روزانہ National Database and Registration Authority کے دفاتر کے باہر نظر آتا ہے۔
پاکستان میں شناختی کارڈ صرف ایک کارڈ نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ بینک اکاؤنٹ کھلوانا ہو، پاسپورٹ بنوانا ہو، نوکری حاصل کرنی ہو یا سم رجسٹر کروانی ہو — ہر جگہ NADRA کی ضرورت پڑتی ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہی ادارہ آج لاکھوں پاکستانیوں کے لیے ذہنی اذیت بن چکا ہے۔
گھنٹوں کی لائنیں، دن بھر کی ذلت
اکثر لوگ صبح سویرے NADRA دفتر پہنچتے ہیں، مگر ان کا نمبر شام تک نہیں آتا۔ کئی دفاتر میں نہ مناسب انتظام ہوتا ہے، نہ رہنمائی، اور نہ ہی شہریوں کے وقت کی کوئی قدر۔
ایک عام مزدور اگر پورا دن لائن میں گزار دے تو اس دن اس کے بچوں کا رزق بھی متاثر ہوتا ہے۔ لیکن شاید یہ تکلیف کسی کو نظر نہیں آتی۔
بائیومیٹرک سسٹم یا عوام کے لیے عذاب؟
بزرگ افراد اور محنت کش طبقے کو اکثر فنگر پرنٹس کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بار بار انگوٹھے لگانے کے باوجود سسٹم انہیں “ویریفائی” نہیں کرتا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر ایک شخص کی شناخت اس کے چہرے، خاندان اور ریکارڈ سے موجود ہے، تو صرف ایک مشین کی ناکامی کی سزا عوام کیوں بھگتیں؟
تاخیر جس سے زندگیاں متاثر ہوتی ہیں
ہزاروں طلبہ، اوورسیز پاکستانی، اور نوکری تلاش کرنے والے افراد اپنے شناختی کارڈز کی تاخیر کی وجہ سے اہم مواقع کھو دیتے ہیں۔ کئی لوگ مہینوں تک صرف ایک “پروسیسنگ” اسٹیٹس میں پھنسے رہتے ہیں۔
ایک عام شہری کے لیے یہ صرف تاخیر نہیں، بلکہ اس کی پوری زندگی رک جانے کے برابر ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان… یا صرف نعرہ؟
حکومت ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی عوام بنیادی سہولیات کے لیے دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں۔
لوگوں کو چاہیے:
- آسان آن لائن سسٹم
- بہتر کسٹمر سروس
- تیز رفتار پراسیسنگ
- شفاف طریقہ کار
- عوام کے ساتھ عزت والا رویہ
کیونکہ شہری صرف سہولت نہیں مانگ رہے… وہ عزت مانگ رہے ہیں۔
آخر میں…
کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کے شہری بنیادی شناخت حاصل کرنے کے لیے ذلیل ہوتے رہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ NADRA صرف ایک ادارہ نہ رہے، بلکہ عوام کی خدمت کرنے والا نظام بنے۔ کیونکہ پاکستانی عوام سہولت کی حقدار ہے، اذیت کی نہیں۔






